میر ے عزیز ہم وطنوں ایک عرصہ دراز گزرا جب اس قوم نے یکجا ہوکر ایک ہرے جھنڈے تلے متحدآواز بلند کی تھی کہ ایک آزاد ملک بنا کر رہیں گے ۔ اور پھر اس متحد قوم نے یہ ملک تو بنا لیا مگر اپنے اتحاد کو پار ا پارا کر دیا ۔ اگر میں حقیقت سے قریب ہو کر دیکھوں تو یہ نظر آتا ہے کہ اس قوم کے اتحاد کو صرف اور صرف تباہ کیا گیا تو ذاتی انا اور اپنے وقار کی خاطر ‘ نہ جانے کیوں آج میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہمار ے لیڈروں نے سیاست چمکانے ‘ اپنے نام کو اوپر کرنے اور شاید کچھ مفادات کو پانے کے لیے اس ملک و قوم کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے ۔ وہ لیڈران جو اسے عوام کی خدمت کا نام دیتے ہیں ان کے جذبے کو سلام ہے مگر اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ قوم کے مسائل پر بات کرنا جائز ہے‘ حقوق مانگنا یقینا حق ہے ‘ صوبہ کے مسائل کو اجاگر کرنا اور عوام کی مشکلات پر تقاریر کرنا اچھا اقدام ہے مگر یہ سب کچھ ہمارے ہاں حد سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے ۔ ہمارے لیڈران نے فقط اس لیے کہ اگر و ہ دوسرے کی بات مان لیتے ہیں تو اپنی انا کو زک پہنچتی ہے یا ناک اونچی نہیں رہتی ‘ جس ایشو کو لیکر سیاست چمکائی جا رہی ہے اس کی چمک دمک ماند پڑتی نظر آتی ہے اس لیے ضد اور انا کی بھوک کے مد نظر اپنی تقاریر اور بیانات کو اس حد تک پہنچادیتے ہیں کہ نفرتیں جنم لینے لگتی ہیں اور ان لیڈروں کی شان تو باقی رہ جاتی ہے مگر میرا ملک عصبیتوں اور نفرتوں کی دلد ل میں دھنستا چلا جا رہا ہے ‘ یہ قوم تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے ۔ یہاں پر میں ایک واقعہ ضرور بیان کرنا چاہوں گا ۔ چند دن قبل اپنے اخبار کے کام کے سلسلے میں قوم پرستی کے حوالے سے پہنچان رکھنے والے لیڈر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پبلک میں دیگر صحافیوں کے سامنے دعوی ٰ کیا کہ آج کے ایک حادثے میںان کی قوم کے 60 لوگ شہید ہو گئے ہیں مگر حکومت توجہ نہیں دے رہی ہے ‘ چند لمحوں بعد جب ان کو فون کرکے دوبارہ تصدیق کے لیے کہا گیا تو معذرت کرنے لگے کہ وہ اصل میں (7) سات کہا تھا مگر منہ سے ساٹھ نکل گیا لیجیے جناب ان کی تو سیاست چمک گئی اور سننے والوں میں نفرت کا ایک اور بات کھل گیا مگر ۔۔۔ خیر ایسے سیاست کرنے والے ہماری قوم کو کہاں لے جائیں گے معلوم نہیں ۔
لیڈروں کو چھوڑیے ہم بات عوام سے کرتے ہیں ۔ اس عوام سے جو الگ الگ زبانیں بولنے کے باوجود ‘ الگ رہنے کے با وجود ہر مشکل گھڑی میں متحدہو جاتی ہے ‘ جن کے درمیان اب بھی بہت سی مشترکات ہیں جو اس ارض پاک کے لیے اپنی جانیں تک قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ اسی قوم میں سے جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک نے دیا کیا ہے ‘ یہ ملک نہ بنتا تو اچھا ہوتا ۔ آج میں ان سے کچھ باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔میرے عزیز ہم وطنوں صرف اتنا کیجیے کہ ذرا فلسطینیوں کے حالات پر نظر ڈالیے کہ جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ‘ ذرا کشمیریوں سے پوچھیے کہ آزادی کس کو کہتے ہیں‘ کیا ہمارے سامنے اسی بھارت میں پسنے والے اور بھوکے رہنے والے مسلمان نہیں ہیں فقط چند خوشحال مسلمان اداکاروں کو دیکھ کر سارے مسلمانوں کو ایک سا سمجھ لینا عقل مندی نہیں ہے۔برما میں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہا ہے ۔ سربیامیں مسلمان روزانہ کٹتے رہے ہیں۔ عراقی اپنی آز ادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور جہاں پر مسلمان حکومت کر رہے ہیں ان ممالک کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے ۔ شکر خدا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جیتے ہیں کتنے ہی مسلمان ممالک ہیں جہاں پر بے شمار پابندیاں ہیں۔ جہاں پر مرضی سے آواز بلند کرنے کی بھی سزا ملتی ہے ۔ ہر ملک کا اپنا قانون ہوتا ہے اور ہم بطور پاکستانی اس کا بے حد احترام کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے آپ کو بھی دیکھنا ہوگا ۔ جو لوگ امریکہ اور برطانیہ فرانس کی مثالیں دیتے ہیں وہ بھی یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کے آزاد ترین اور روشن خیال اقوام والے ممالک میں مسلمان خوف زدہ ہے وجہ کوئی بھی ہو مگر آزادی اس کے لیے مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے ۔
اور غیر مسلموں کی بات ہے تو وہ بھی اس ملک میں جتنے اچھے طریقے سے رہ رہے ہیں دیگر ممالک میں نہیں رہ سکتے ‘ بھارت میں آئے دنوں عیسائیوں اور دیگر مذاہب کی اقوام پر ظلم ہوتے ہیں ان کے گھروں کو جلایا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسے واقعات کبھی کبھار سنائی دیتے ہیں اور اس پر بھی ساری قوم متحد ہوکر ان اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کر تی ہے ۔ جتنی مذہبی آزادی پاکستان میں ہے دنیا کے بے شمار ممالک اس کی برابری کر ہی نہیں سکتے ہیں ۔
ہم سب کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں ‘ اپنی مرضی سے اپنے فرقے اور اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں چند لوگو ں کی جہالت کا ذمہ دار ساری قوم کو قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ ہم سب آزادی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں ۔ جتنا دل چاہتا ہے حکومت کے خلاف کہتے پھرتے ہیں ہم آزاد ہیں اس لیے ہماری بات کہنے اور سننے والے لوگ ہیں ‘ ہم آزاد ہیں اس لیے آزادی کی قدر نہیں کرتے ہیں ۔ ہم سب کو شکر خدا کرنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں اور اس آزادی کی قدر کرنا چاہیے ۔ ہمارے مسائل بے شمار ہیں ‘ بے شمار اختلافات ہیں مگر اس کے با وجود آزادی کے ساتھ ان پر بات تو کر سکتے ہیں ہماری قوم پرست جماعتیں اسی آزادی کی بدولت اپنی آواز عوام تک پہنچا پاتی ہیں ۔ ہم سب کو اپنے اختلافات کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا ہوگی کہ آزادی ہے تو ہم ہیں اور اگر یہ نہ رہی تو ہم نہیں رہیں گے ۔میں پر امید ہوں اور یہ یقین واثق رکھتا ہوں کہ ہم سب اتحاد قائم کر کے رہیں گے یہ قوم متحد ہے اور رہے گی کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا ‘ کوئی اس کو تقسیم نہیں کر سکتا ہے مگر آج پھر سے اسی 23 مارچ 1940 والے حوصلے اور اتحاد کی ضرور ت ہے۔
Popular Posts
-
جس طرح اج پاکستان کی عوام لوڈشیڈنگ کے کبھی نہ ختم ھونے والے عذاب میں مبتلا ھے جس کی وجہ انسانی زندگی کے شب و روز اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح...
-
میر ے عزیز ہم وطنوں ایک عرصہ دراز گزرا جب اس قوم نے یکجا ہوکر ایک ہرے جھنڈے تلے متحدآواز بلند کی تھی کہ ایک آزاد ملک بنا کر رہیں گے ۔ اور پھ...
-
ھمارے ملک میں کچھ سیاسی شیخ چلی ایسے بھی ھیں جو کہ بلا سوچے سمجے ایسے بیان دیتے ھیں جس اس بات کو تقویت ملتی ھے کہ شیخ چلی کا کردار فرضی نھیں...
-
محرم کے زخم ابھی بھرے بھی نھیں تھے کہ ایک اور زخم لگا دیا ان ظالموں نے جن کے ظلم اور بربریت کے اگے شیطان بھی پنھاہ مانگتا ھوگا۔ کیا ھمارے عل...
-
جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکر...
-
مبارک باد کی حقدار ھے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جن کی پرخلصوص کوششوں کی وجہ سے سندھ کا بلدیاتی تنازہ جمھوری طریقے سے پ...
-
جب جب ظلمت اور ناانصافی کے اندھیرے انسان کو گھیر لیتے ھیں ایسے میں ایک امید کی کرن ضرور ھوتی ھے جس کی طرف اگر انسان کے قدم بروقت پڑجاییں تو ...
-
روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔ اےاز الشےخ گلبرگہہم بچپن سے سنتے آئے ہےں کہ انسان کی بنےادی ضرورتےں روٹی کپڑا اور مکاں ہےں۔ ان کے بغےر زندگی...
No comments:
Post a Comment