Popular Posts
-
جس طرح اج پاکستان کی عوام لوڈشیڈنگ کے کبھی نہ ختم ھونے والے عذاب میں مبتلا ھے جس کی وجہ انسانی زندگی کے شب و روز اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح...
-
میر ے عزیز ہم وطنوں ایک عرصہ دراز گزرا جب اس قوم نے یکجا ہوکر ایک ہرے جھنڈے تلے متحدآواز بلند کی تھی کہ ایک آزاد ملک بنا کر رہیں گے ۔ اور پھ...
-
ھمارے ملک میں کچھ سیاسی شیخ چلی ایسے بھی ھیں جو کہ بلا سوچے سمجے ایسے بیان دیتے ھیں جس اس بات کو تقویت ملتی ھے کہ شیخ چلی کا کردار فرضی نھیں...
-
محرم کے زخم ابھی بھرے بھی نھیں تھے کہ ایک اور زخم لگا دیا ان ظالموں نے جن کے ظلم اور بربریت کے اگے شیطان بھی پنھاہ مانگتا ھوگا۔ کیا ھمارے عل...
-
جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکر...
-
مبارک باد کی حقدار ھے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جن کی پرخلصوص کوششوں کی وجہ سے سندھ کا بلدیاتی تنازہ جمھوری طریقے سے پ...
-
جب جب ظلمت اور ناانصافی کے اندھیرے انسان کو گھیر لیتے ھیں ایسے میں ایک امید کی کرن ضرور ھوتی ھے جس کی طرف اگر انسان کے قدم بروقت پڑجاییں تو ...
-
روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔ اےاز الشےخ گلبرگہہم بچپن سے سنتے آئے ہےں کہ انسان کی بنےادی ضرورتےں روٹی کپڑا اور مکاں ہےں۔ ان کے بغےر زندگی...
Thursday, March 25, 2010
ینگ گلوبل لیڈر
جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکردگی اور کارناموں کے گرویدہ ھیں۔ چیف جسٹس کے حسن ظن کی داد دینا پڑے گی کہ گذزشتہ دنوں بھری سپریم کورٹ میں انھوں نے کراچی کے بے حد لایق فرزند کے کارناموں کی تعریف کرنے میں ذرا بھی بخل سے کام نھیں لیا۔ ورنہ دنیا جانتی ھے چیف صاحب کبھی کسی سرکاری اور خکومتی اھلکار کی تعریف اور توصیف نھیں کی۔ اور کوی کیوں نہ کرے اج مصطفی کمال نے دنیا میں پاکستان کا نام بلند کردیا۔ ینگ گلوبل لیڈر کا خطاب پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں پھلی بار مصطفی کمال کو ملا جس نے عوامی خدمت میں اعلی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کا بے مثال مظاھرہ کیا۔ وہ واقعی سرھانے کے لایق بھی ھے۔ ملک کا ھر شھری اس بات کو اچھی طرح اج جان گیا ھے کہ پاکستان کی فلاح اور بھبود کے اصل مالک اور نگھبان صرف غریب اور متوسط ظبقہ ھی ھے اگر انکے ھاتھوں میں ملک کی بھاگ ڈور دی جاے تو اج صرف ینگ گلوبل لیڈر میں غریب اور متوسط طبقے سے تالق رکھنے والے پاکستانی کا نام ایا ھے، کل پاکستان ھی دنیا کو لیڈ کرے گا۔ اب حکومت پاکستان کی باری ھے، صدر پاکستان اور وزیر پاکستان سے گذارش ھے کہ پاکستان کے اس لایق فرزند کو کسی سیاسی عصبیت کے بغیر پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازیں۔ ویسے وہ کسی سرکاری اعزاز کا محتاج تو نھیں مگر اس سے خود اعزاز کی توقیر میں ھی اضافہ ھوگا۔ اگر حکومت کراچی کو چار برسوں کی قلہل مدت میں مغرب اور یورپ کے کسی ملک کے شھر میں تبدیل کرنے والے فن کار، معمار اور اسٹار مصطفی کمال کو ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازے گی۔ ویسے تو گذزشتہ دنوں سابق ناظم کراچی جناب نعمت اللہ صاحب کی بھی پریس کانفرس نظروں سے گذری جس میں انھوں نے مصطفی کمال کی سٹی گورمنٹ پر تنقید کی۔ انکی تنقید سر انکھوں پر کیکونکہ یہ بھی جمھوریت کا حسن ھے۔ اور نعمت اللہ صاحب ایک قابل احترام شخصیت کے مالک بھی ھیں۔ اور رھی مصطفی کمال کی بات وہ شخص بھی ایک لایق فرزند ھے اور بزرگوں کی عزت کرنا نہ صرف اس پر ایک مسلمان اور پاکستانی گھرانے سے تالق ھونے کی وجہ پر ان پر فرض ھے بلکہ انکی نتظیم متحدہ قومی موومنٹ کا بھی اولین فلسفہ ھے۔ جھاں مصطفی کمال کو دنیا میں اج ایک بلند مقام ملا ھے۔ جھاں ملکی اور بین الااقوامی سطح پر انکی پزرای ھوری ھے۔ ایسے میں تنقید بھی ایک صحت مند اقدام ھے جو انے والے الیکشن میں مزید انکی صلاحتوں کو جلا بخشے گا۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment