Popular Posts

Wednesday, September 14, 2011

Thursday, March 25, 2010

ظالموں کی رسی

محرم کے زخم ابھی بھرے بھی نھیں تھے کہ ایک اور زخم لگا دیا ان ظالموں نے جن کے ظلم اور بربریت کے اگے شیطان بھی پنھاہ مانگتا ھوگا۔ کیا ھمارے علما اکرام کو ادراک نہ ھوا ھوگا ایک ظلم کو دیکھکر کہ کھلے عام اجتماّع ان شیطان لوگوں کے لیے اسان ٹارگٹ ھوتا ھے جس کی تلاش انکو ھوتی ھے۔ کیا اب بھی یہ سوچنے اور سمجنے کی بات نھیں رھی ھمارے حکمرانوں ، ساستدانوں اور علما اکرام کے لیے دس محرم کے المناک حادثے کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا شعیہ علما اکرام کے مشورے کے بعد کہ عزادران کی حفاظت کو مدنظر رکھکر چھلم کے جلوس کو بڑے پیمانے پر نہ نکالا جاے کیونکہ معصوم انسانو ں کی جان زیادہ اولین ھے اور انکوں محفظوظ رکھنا اللہ اور نبی برحق اور انکے نواسے حضرت حسین کے لیےزیادہ مقبول عمل ھوگا۔ ناکہ انکے چاھنے والوں کو ان دھشت گردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دینا جن کے اگے ھماری فورسس بھی لاچار ھوگی ھیں۔ حد تو یہ ھوگی ھے کہ زخمیوں مدد کرنے والوں کو بھی نھیں بخشا گیا اور جناح اسپتال میں ڈاکٹر اور زحمیوں کی مدد کرنے والوں انسان دوست لوگوں کو بھی نھیں بخشا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان جو اپنے قاید کی اپیل پر انسانیت کی مدد کرنے پھنچے تھے وہ بھی اپنی جان کو اللہ کے سپرد کرگیے اس ایمان کے ساتھ کے کہ انسانیت کو بچانا افضل عمل ھے ناکہ خلق خدا کو اذییت میں مبتلا کرنا۔خدا کی قسم جس کے قبضے قدرت میں تمام انسان کی جان و مال ھے وہ ضرور ان ظالموں کی رسی ایک دن کھنچے گا جو اس کے معصوم بندوں کو ایذا پھنچا رھے ھیں۔ اور پاکستان کی حفاظت کرے گا جس کو یہ ظالم تل تل بکھیر رھے ھیں۔ ظالموں اللہ سے ڈرو ۔ کب تک تم بچ پاوگے اللہ کے عذاب سے ۔ وہ وقت اب دور نھیں جب تم کو اللہ کو جواب دینا ھوگا۔ اپنے ظلم اور پرپریت کا۔

دھاندلی کی روک تھام

مبارک باد کی حقدار ھے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جن کی پرخلصوص کوششوں کی وجہ سے سندھ کا بلدیاتی تنازہ جمھوری طریقے سے پایہ تکمیل پاگیا اور متفیقہ طور پر ایڈمینسڑ کی تعناتی منظور ھوگی جو الیکشن کے قیام کے بعد عوام کے منتخب لوگوں کو اقتدار منتقل کردے گی۔ مبارک بعد کے حقدار مصطفی کمال بھی ھیں جنھوں نے نہ صرف اپنی محنت سے کراچی کے لوگوں اور پاکستان کے دیگر عوام کے دل تو جیتے ھی ھیں بلکہ بین الاقومی سطح پر بھی پاکستان کے نام کو بلند کیا۔ اور اپنے قاید الطاف حسین کے اس فکر فلسفہ کو سچ کردیھکیا کہ تکلیفوں کو وہ ھی سمجتا ھے جو اس سے گذرتا ھے اور وہ ھی اس کو حل کرنے کی صحیح اھلیت بھی رکھتا ھے۔ سامنے کی بات ھے جس کو سمجنا اج ھر پاکستانی پر فرض ھے اور پاکستان سے محبت کا تقاضہ بھی ھے، ھمارے پاکستان کی ترقی اور بھبود کا پل صراط جس کو پار کرنے کے لیے ساٹھ سالوں سے دو فیصد مراعات یافتہ گھن چکر بنا ھوا تھا وہ پل صراط پاکستان کی غریب اور متوسط قیادت نے چار سالوں ایسا پار کیا کہ دنیا کو حیرت زدہ کردیا اور سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ جناتی صفت کے حامل افراد کس بوتل میں قید تھے۔ جو نہ دن کا خیال کرتے ھیں نہ رات کا بس اپنی ذمہ داری انجام دینے کی فکر میں رھتے ھیں۔ شاباش ھے ان تمام حق پرست کونسلرز، ضلعی ناظم حضرات اور تمام مشنری جس جس نے محنت اور ذمہ داری کے اس بے مثال سفر میں ناظم کراچی مصطفی کمال کا ساتھ دیا اور کامیابی حاصل کی۔ حکومتی اعلامیہ کے مطابق چار ماہ کے باد دوبارہ بلدیاتی ایکشن کا بگل بجنے والا ھے جس میں وہ ھی کامیابی حاصل کرے گا جو عوام کی فلاح اور بھبود کے کاموں کو ھی اپنی پھلی اور اخری ترجیح سمجتا ھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے ضلعی ادارے نادرہ اور الیکشن کمیشن پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری عاید ھوتی ھے کہ وٹر لسٹوں کو ازسرنو ترتیب دیں وٹروں کے اصل رھایشی پتوں کے حساب سے تاکہ جس ووٹ کا حق جس حلقے یا تحصیل کا ھو اسی جگہ پر ھی کاسٹ ھو۔ کیکونکہ ھر ووٹ اپنے حلقے کی امانت ھے اسکو اسی جگہ پر کاسٹ ھونا چاھیے اس سے بوگس ووٹوں کی روک تھام ھوسکتی ھے۔ ورنہ ایک ووٹ دوجگہ استمعال ھوسکتا ھے۔ ایک اصل جھاں وہ اپنے روزگار کے لیے عارضی طور پر مقیم ھے اور دوسرا وہ بوگس ووٹ جھاں کا وہ اصل رھایشی ھے وھاں کاسٹ ھوجاتا ھے۔ جو کہ سراسر غلط اور جمھوری اقدار کے خلاف ھے۔ جس کی روک تھام کے لیے کوی قانون بننا اج کی اشد ضرورت ھے۔ جس پر ھماری تمام سیاسی جماعتوں ایک جمع ھوکر قانون سازی کرنی ھوگی تاکہ اس قسم کی دھاندلی کی روک تھام ھو اور الیکشن شفاف ھوں جس پر تمام لوگ متفق ھوں۔

ینگ گلوبل لیڈر

جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکردگی اور کارناموں کے گرویدہ ھیں۔ چیف جسٹس کے حسن ظن کی داد دینا پڑے گی کہ گذزشتہ دنوں بھری سپریم کورٹ میں انھوں نے کراچی کے بے حد لایق فرزند کے کارناموں کی تعریف کرنے میں ذرا بھی بخل سے کام نھیں لیا۔ ورنہ دنیا جانتی ھے چیف صاحب کبھی کسی سرکاری اور خکومتی اھلکار کی تعریف اور توصیف نھیں کی۔ اور کوی کیوں نہ کرے اج مصطفی کمال نے دنیا میں پاکستان کا نام بلند کردیا۔ ینگ گلوبل لیڈر کا خطاب پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں پھلی بار مصطفی کمال کو ملا جس نے عوامی خدمت میں اعلی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کا بے مثال مظاھرہ کیا۔ وہ واقعی سرھانے کے لایق بھی ھے۔ ملک کا ھر شھری اس بات کو اچھی طرح اج جان گیا ھے کہ پاکستان کی فلاح اور بھبود کے اصل مالک اور نگھبان صرف غریب اور متوسط ظبقہ ھی ھے اگر انکے ھاتھوں میں ملک کی بھاگ ڈور دی جاے تو اج صرف ینگ گلوبل لیڈر میں غریب اور متوسط طبقے سے تالق رکھنے والے پاکستانی کا نام ایا ھے، کل پاکستان ھی دنیا کو لیڈ کرے گا۔ اب حکومت پاکستان کی باری ھے، صدر پاکستان اور وزیر پاکستان سے گذارش ھے کہ پاکستان کے اس لایق فرزند کو کسی سیاسی عصبیت کے بغیر پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازیں۔ ویسے وہ کسی سرکاری اعزاز کا محتاج تو نھیں مگر اس سے خود اعزاز کی توقیر میں ھی اضافہ ھوگا۔ اگر حکومت کراچی کو چار برسوں کی قلہل مدت میں مغرب اور یورپ کے کسی ملک کے شھر میں تبدیل کرنے والے فن کار، معمار اور اسٹار مصطفی کمال کو ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازے گی۔ ویسے تو گذزشتہ دنوں سابق ناظم کراچی جناب نعمت اللہ صاحب کی بھی پریس کانفرس نظروں سے گذری جس میں انھوں نے مصطفی کمال کی سٹی گورمنٹ پر تنقید کی۔ انکی تنقید سر انکھوں پر کیکونکہ یہ بھی جمھوریت کا حسن ھے۔ اور نعمت اللہ صاحب ایک قابل احترام شخصیت کے مالک بھی ھیں۔ اور رھی مصطفی کمال کی بات وہ شخص بھی ایک لایق فرزند ھے اور بزرگوں کی عزت کرنا نہ صرف اس پر ایک مسلمان اور پاکستانی گھرانے سے تالق ھونے کی وجہ پر ان پر فرض ھے بلکہ انکی نتظیم متحدہ قومی موومنٹ کا بھی اولین فلسفہ ھے۔ جھاں مصطفی کمال کو دنیا میں اج ایک بلند مقام ملا ھے۔ جھاں ملکی اور بین الااقوامی سطح پر انکی پزرای ھوری ھے۔ ایسے میں تنقید بھی ایک صحت مند اقدام ھے جو انے والے الیکشن میں مزید انکی صلاحتوں کو جلا بخشے گا۔

سیاسی شیخ چلی

ھمارے ملک میں کچھ سیاسی شیخ چلی ایسے بھی ھیں جو کہ بلا سوچے سمجے ایسے بیان دیتے ھیں جس اس بات کو تقویت ملتی ھے کہ شیخ چلی کا کردار فرضی نھیں تھا واقعی ایسے کردار ھمارے معاشرے کا حصہ ھیں۔ ایک ایسے ھی شیخ چلی شاھی سید صاحب بھی ھیں جن کی باتوں کا نہ تو سر پیر ھوتا ھے نہ عقل اس کو تسلیم کرتی ھے۔ جناب ناسمج صاحب کبھی دس ھزار پختونوں کی فوج بنانے کی بات کرتے ھیں جس پر ھمارے مقتدر حلقوں کو تشویش ھونا چاھیے کہ پاکستان کا اییین اس بات کی اجازت نھیں دیتا کہ اس قسم کی ذاتی فوج بنای جاے اور کس کے لیے، اس کے کیا مقاصد ھونگے اور اس کے اخراجات کون پورے کرے گا۔ ایک سوال ھے جناب موصوف کی پارٹی کے اعلی ذمہ دران کو ضرور بازپرس کرنی چاھیے۔ اج بھر انکی شیخ چلی طبعت نے ایک اور شوشا ڈال دیا کہ بلدیاتی الیکشن میں کوی سرپرایز دینا چاھتے ھیں وہ بھی کراچی میں۔ ارے میدان لگنے والا ھے بجاے بڑکیں مارنے کے کچھ تو عملی طور پر کرکے بھی دیکھانا بھی پڑتا ھے ،بس اپ یہ کر لو کہ نفرت بھلانے کی سیاست نہ کرو اتنا ھی احسان کافی ھوگا پاکستانی قوم پر۔ کراچی میں کوی کسی سے نفرت نھیں کرتا یہ تو محبتوں کا شھر ھے۔ رھی ترقیاتی کام نہ نظر انے کی شکایت اس کا علاج انکھوں کا ڈاکٹر ھی بھتر طور پر کرسکتا ھے۔ محبتوں کو ٌپھلاو اور متحدہ قومی موومنٹ سے سبق لے لو اج وہ ھی واحد پارٹی ھی پاکستان میں نظر ارھی ھے جو عملا پاکستانی قوم کو متحد کرنے کی بات کررھی ھے۔ ایک دفعہ پھر 23 مارچ ارھی ھے جس میں ھمارے بزرگوں نے ایک ریزولیشن پاس کی تھی یعنی ایک وعدہ کیا تھا خود سے وہ وعدہ زیادہ اولین ھے اور پاکستانی قوم پر قرض ھے اپنے بزرگوں کا اور شھیدوں کہ اس کو وفا کریں، نہ ذاتی مفاد کے حامل مثیاق جمھیوریت جن کی ھمارے ان بزرگوں کے وعدوں اگے کوی حثیت نھیں جن کو ھم بھول بھیٹے ھیں اور کچھ سیاسی شیخ چلی نفرتوں کے بیج بورھے ھیں اور قوم کو گمراہ کرنے کا گھنوانا فعل کررھے ھیں۔ ھم سب کو پاکستانی بن کر متحد ھونا ھوگا۔ ھمارہ متحد ھونا ھی ھمارے پاکستان کی تکمیل کرے گا۔

لوڈ شیڈنگ کا بھوت

جس طرح اج پاکستان کی عوام لوڈشیڈنگ کے کبھی نہ ختم ھونے والے عذاب میں مبتلا ھے جس کی وجہ انسانی زندگی کے شب و روز اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ھورھی ھیں۔ جو ملک کے لیے حد درجہ تباہ کن ھیں۔ ھماری تمام حکومتیں چاھیے وہ کسی بھی سیاسی جماعتوں یا فوجی دور حکومتیں کی رھی ھوں بری طرح ناکام نظر اتی ھیں اور لوڈ شیدنگ کا بھوت پاکستانی قوم اور ملک سے کسی طرح سے اترنے کا نام ھی نھیں دیتا۔ ایسے میں متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حسین کا اپنی جماعت کے 26 یوم یایسس کے موقعے پر جس خوداعتمادی کے ساتھ پاکستانی عوام کے سامنے برملا اس چیلنج کا اظھار کرنا کہ اگر پورے اختیارات کے ساتھ متحدہ کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ٹاسک دے دیا جاے تو محض ایک سال کے مختصر عرصے ملک کے اس دیرینہ اور حل طلب مسلے نہ صرف حل کردینگے بلکہ اس کو جدید طریقوں سے منسلک کردینگے۔ یہ واقعی خوش اییند امند کی ایک کرن ھے پاکستانی قوم کے لیے جس پر تمام پاکستانی قوم کو اس کا خیر مقدم کرنا چاھییے اور اس کارخیر کو پورہ کرنے اور اس کو سرانجام دینے کے لیے پاکستان کی ھر سیاسی جماعت کو ھر فورم پر متحدہ سپورٹ کرنا چاھیے تاکہ یہ اھم ذمہ دراری کو متحدہ قومی موومنٹ کو تمام اختیارات کے ساتھ دی جاے اور ملک کے اس اھم مسلے کو جلد سے جلد حل کیا جاسکے۔ جس اعتماد کے ساتھ متحدہ قومی کے قاید الطاف حسین صاحب نے یہ بات کی ھے وہ اس بات کا ثبوت ھے کہ متحدہ کے پاس اس بات کی صلاحیت موجود ھے کہ اس چلنج کو پورہ کرسکے۔ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کو ضرور اس مسلے کے حل کے لیے متحدہ کی خدمات حاصل کرنا چاھیے کیونکہ یہ ملک ھمارہ ھے ھم ھی نے مل بیھٹکر اپنے مسایل کو خود حل کرنے ھیں۔ اللہ بھی یہ ھی کھتا ھے کہ جو اپنی مدد اپ نھیں کرتا اس کو اللہ کی مدد حاصل نھیں ھوتی اور جب اللہ کی مدد نہ ھو تو نصرت بھی نھیں ملتی۔ اور اج ھر محب وطن پاکستانی کا ملک سے محبت کا تقاضہ ھے کہ مل جل کر کام کریں۔ جب ھی ھم اپنے ملک کو بچاسکتے ھیں۔ چاھیے وہ لوڈشیڈنگ ھو یا دھشت گردی یا مھنگای سب ھی ھمارے مشترکہ مسایل ھیں جس کے لیے ایک جٹ ھونا ھوگا۔ جب ھی اللہ ھماری مدد کرے گا اور وقت اگیا ھے ایک ھونے کا۔

تلخیاں

میر ے عزیز ہم وطنوں ایک عرصہ دراز گزرا جب اس قوم نے یکجا ہوکر ایک ہرے جھنڈے تلے متحدآواز بلند کی تھی کہ ایک آزاد ملک بنا کر رہیں گے ۔ اور پھر اس متحد قوم نے یہ ملک تو بنا لیا مگر اپنے اتحاد کو پار ا پارا کر دیا ۔ اگر میں حقیقت سے قریب ہو کر دیکھوں تو یہ نظر آتا ہے کہ اس قوم کے اتحاد کو صرف اور صرف تباہ کیا گیا تو ذاتی انا اور اپنے وقار کی خاطر ‘ نہ جانے کیوں آج میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہمار ے لیڈروں نے سیاست چمکانے ‘ اپنے نام کو اوپر کرنے اور شاید کچھ مفادات کو پانے کے لیے اس ملک و قوم کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے ۔ وہ لیڈران جو اسے عوام کی خدمت کا نام دیتے ہیں ان کے جذبے کو سلام ہے مگر اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ قوم کے مسائل پر بات کرنا جائز ہے‘ حقوق مانگنا یقینا حق ہے ‘ صوبہ کے مسائل کو اجاگر کرنا اور عوام کی مشکلات پر تقاریر کرنا اچھا اقدام ہے مگر یہ سب کچھ ہمارے ہاں حد سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے ۔ ہمارے لیڈران نے فقط اس لیے کہ اگر و ہ دوسرے کی بات مان لیتے ہیں تو اپنی انا کو زک پہنچتی ہے یا ناک اونچی نہیں رہتی ‘ جس ایشو کو لیکر سیاست چمکائی جا رہی ہے اس کی چمک دمک ماند پڑتی نظر آتی ہے اس لیے ضد اور انا کی بھوک کے مد نظر اپنی تقاریر اور بیانات کو اس حد تک پہنچادیتے ہیں کہ نفرتیں جنم لینے لگتی ہیں اور ان لیڈروں کی شان تو باقی رہ جاتی ہے مگر میرا ملک عصبیتوں اور نفرتوں کی دلد ل میں دھنستا چلا جا رہا ہے ‘ یہ قوم تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے ۔ یہاں پر میں ایک واقعہ ضرور بیان کرنا چاہوں گا ۔ چند دن قبل اپنے اخبار کے کام کے سلسلے میں قوم پرستی کے حوالے سے پہنچان رکھنے والے لیڈر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پبلک میں دیگر صحافیوں کے سامنے دعوی ٰ کیا کہ آج کے ایک حادثے میںان کی قوم کے 60 لوگ شہید ہو گئے ہیں مگر حکومت توجہ نہیں دے رہی ہے ‘ چند لمحوں بعد جب ان کو فون کرکے دوبارہ تصدیق کے لیے کہا گیا تو معذرت کرنے لگے کہ وہ اصل میں (7) سات کہا تھا مگر منہ سے ساٹھ نکل گیا لیجیے جناب ان کی تو سیاست چمک گئی اور سننے والوں میں نفرت کا ایک اور بات کھل گیا مگر ۔۔۔ خیر ایسے سیاست کرنے والے ہماری قوم کو کہاں لے جائیں گے معلوم نہیں ۔


لیڈروں کو چھوڑیے ہم بات عوام سے کرتے ہیں ۔ اس عوام سے جو الگ الگ زبانیں بولنے کے باوجود ‘ الگ رہنے کے با وجود ہر مشکل گھڑی میں متحدہو جاتی ہے ‘ جن کے درمیان اب بھی بہت سی مشترکات ہیں جو اس ارض پاک کے لیے اپنی جانیں تک قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ اسی قوم میں سے جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک نے دیا کیا ہے ‘ یہ ملک نہ بنتا تو اچھا ہوتا ۔ آج میں ان سے کچھ باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔میرے عزیز ہم وطنوں صرف اتنا کیجیے کہ ذرا فلسطینیوں کے حالات پر نظر ڈالیے کہ جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ‘ ذرا کشمیریوں سے پوچھیے کہ آزادی کس کو کہتے ہیں‘ کیا ہمارے سامنے اسی بھارت میں پسنے والے اور بھوکے رہنے والے مسلمان نہیں ہیں فقط چند خوشحال مسلمان اداکاروں کو دیکھ کر سارے مسلمانوں کو ایک سا سمجھ لینا عقل مندی نہیں ہے۔برما میں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہا ہے ۔ سربیامیں مسلمان روزانہ کٹتے رہے ہیں۔ عراقی اپنی آز ادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور جہاں پر مسلمان حکومت کر رہے ہیں ان ممالک کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے ۔ شکر خدا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جیتے ہیں کتنے ہی مسلمان ممالک ہیں جہاں پر بے شمار پابندیاں ہیں۔ جہاں پر مرضی سے آواز بلند کرنے کی بھی سزا ملتی ہے ۔ ہر ملک کا اپنا قانون ہوتا ہے اور ہم بطور پاکستانی اس کا بے حد احترام کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے آپ کو بھی دیکھنا ہوگا ۔ جو لوگ امریکہ اور برطانیہ فرانس کی مثالیں دیتے ہیں وہ بھی یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کے آزاد ترین اور روشن خیال اقوام والے ممالک میں مسلمان خوف زدہ ہے وجہ کوئی بھی ہو مگر آزادی اس کے لیے مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے ۔

اور غیر مسلموں کی بات ہے تو وہ بھی اس ملک میں جتنے اچھے طریقے سے رہ رہے ہیں دیگر ممالک میں نہیں رہ سکتے ‘ بھارت میں آئے دنوں عیسائیوں اور دیگر مذاہب کی اقوام پر ظلم ہوتے ہیں ان کے گھروں کو جلایا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسے واقعات کبھی کبھار سنائی دیتے ہیں اور اس پر بھی ساری قوم متحد ہوکر ان اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کر تی ہے ۔ جتنی مذہبی آزادی پاکستان میں ہے دنیا کے بے شمار ممالک اس کی برابری کر ہی نہیں سکتے ہیں ۔

ہم سب کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں ‘ اپنی مرضی سے اپنے فرقے اور اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں چند لوگو ں کی جہالت کا ذمہ دار ساری قوم کو قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ ہم سب آزادی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں ۔ جتنا دل چاہتا ہے حکومت کے خلاف کہتے پھرتے ہیں ہم آزاد ہیں اس لیے ہماری بات کہنے اور سننے والے لوگ ہیں ‘ ہم آزاد ہیں اس لیے آزادی کی قدر نہیں کرتے ہیں ۔ ہم سب کو شکر خدا کرنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں اور اس آزادی کی قدر کرنا چاہیے ۔ ہمارے مسائل بے شمار ہیں ‘ بے شمار اختلافات ہیں مگر اس کے با وجود آزادی کے ساتھ ان پر بات تو کر سکتے ہیں ہماری قوم پرست جماعتیں اسی آزادی کی بدولت اپنی آواز عوام تک پہنچا پاتی ہیں ۔ ہم سب کو اپنے اختلافات کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا ہوگی کہ آزادی ہے تو ہم ہیں اور اگر یہ نہ رہی تو ہم نہیں رہیں گے ۔میں پر امید ہوں اور یہ یقین واثق رکھتا ہوں کہ ہم سب اتحاد قائم کر کے رہیں گے یہ قوم متحد ہے اور رہے گی کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا ‘ کوئی اس کو تقسیم نہیں کر سکتا ہے مگر آج پھر سے اسی 23 مارچ 1940 والے حوصلے اور اتحاد کی ضرور ت ہے۔