Popular Posts
-
جس طرح اج پاکستان کی عوام لوڈشیڈنگ کے کبھی نہ ختم ھونے والے عذاب میں مبتلا ھے جس کی وجہ انسانی زندگی کے شب و روز اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح...
-
میر ے عزیز ہم وطنوں ایک عرصہ دراز گزرا جب اس قوم نے یکجا ہوکر ایک ہرے جھنڈے تلے متحدآواز بلند کی تھی کہ ایک آزاد ملک بنا کر رہیں گے ۔ اور پھ...
-
ھمارے ملک میں کچھ سیاسی شیخ چلی ایسے بھی ھیں جو کہ بلا سوچے سمجے ایسے بیان دیتے ھیں جس اس بات کو تقویت ملتی ھے کہ شیخ چلی کا کردار فرضی نھیں...
-
محرم کے زخم ابھی بھرے بھی نھیں تھے کہ ایک اور زخم لگا دیا ان ظالموں نے جن کے ظلم اور بربریت کے اگے شیطان بھی پنھاہ مانگتا ھوگا۔ کیا ھمارے عل...
-
جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکر...
-
مبارک باد کی حقدار ھے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جن کی پرخلصوص کوششوں کی وجہ سے سندھ کا بلدیاتی تنازہ جمھوری طریقے سے پ...
-
جب جب ظلمت اور ناانصافی کے اندھیرے انسان کو گھیر لیتے ھیں ایسے میں ایک امید کی کرن ضرور ھوتی ھے جس کی طرف اگر انسان کے قدم بروقت پڑجاییں تو ...
-
روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔ اےاز الشےخ گلبرگہہم بچپن سے سنتے آئے ہےں کہ انسان کی بنےادی ضرورتےں روٹی کپڑا اور مکاں ہےں۔ ان کے بغےر زندگی...
Thursday, March 25, 2010
روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔
روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔ اےاز الشےخ گلبرگہہم بچپن سے سنتے آئے ہےں کہ انسان کی بنےادی ضرورتےں روٹی کپڑا اور مکاں ہےں۔ ان کے بغےر زندگی کا تصوّر ہی بے معنی ہے۔ لےکن موجودہ حکومت کے خےال مےں ےہ اےک فرسودہ اور دقےانوسی بات ہے ۔ انسان کی بنےادی ضرورتےں دراصل موبائل، کھلونے اور کےبل ٹی وی باکس ہےں۔ موبائل کھلونے اور کےبل ٹی وی زندہ رہنے کےلئے ضروری ہےں انکے بغےر انسان مر جائےگا۔ آپ کو مےری بات پر ےقےں نہ ہو تو ہماری غرےب پرور حکومت کا بجٹ دےکھ لےں۔ اےسا لگتا ہے کہ ہمارا مرکزی بجٹ غرےب دشمن عالمی مالےاتی اداروں کیہ ہداےت پرا میروںکی زندگےوں کو مزےد فرحت بخش اور بزنس کو اور زےادہ نفع بخش بنانے کےلئے پےش کےا گےا۔ غریبوں کےلئے اس بجٹ مےں کچھ بھی نہےں۔ بجٹ مےں اعداد و شمار کے ذرےعہ ملک کی ترقی و خوشحالی کی دلکش منظر کشی کی گئی ۔ اعدادو شمار کے اس گورکھ دھندے کا تفصیلی تجزیہ بھی کیا جاسکتاہے لیکن اس کی جتنی بھی تہیں اور چھلکے اتار لیں خلاصہ صرف ےہ ہوگا کہ غرےب کی قسمت مےں مزےد غرےب ہونا ہے۔ شائد اسی لئے مزےد غربت کے غم کو غلظ کرنے تفرےحی سامانوںکو سستا کر دےا گےاہے۔غربت کو فروغ دےنے کے لئے شب و روز کی محنت شاقہ سے تےار کئے گئے اس بجٹ مےں پٹرول اورڈیزل کے دام ،سیمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میںاضافہ کردیا گیا۔اس کااثر یہ ہوگا کہ مہنگائی اوربڑھے گی اور غریب پھر پسے گا شب وروز کی چکی مےں ۔ امےروں کےلئے تےار کئے گئے اس بجٹ مےں متوسط طبقے خاص طور پر سرکاری ملازمےں کو اپنا ھمنوا بنانے چند علامتی اقدامات کئے گئے ہےں۔ لےکن خاص بات ےہ ہے کہ ان مراعات کو دےنے کےلئے پھر اےک مرتبہ غرےبوں کو ہی لوٹا گےا۔ پرنب مکھرجی نے پٹرول اور ڈےزل کےاےکسائز ڈےوٹی اور دام بڑھا کر 40,000 کروڑ حاصل کرےگی ۔ پٹرول اور ڈےزل کے داموں مےں اضافہ کے ساتھ ہی مسلسل ردّ عمل chain reaction کی وجہ سے تمام اشےائے ضروری بشمول غذائی اشےا مہنگی ہو جائےنگی۔ نتےجتاّ حکومتی آمدنی renenue مےںمزےد اضافہ ہوگا۔ اسمےں سے 21,000 کروڑ روپئے متوسط اور اعلی متوسط طبقہ کو انکم ٹےکس مےں چھوٹ کی شکل مےں دےا جائےگا۔جہاں تک ٹےکس کا سوال ہے ےہ بات بلکل غلط ہے کہ غرےب طبقہ ٹےکس نہےں دےتا۔ بلکہ اےمانداری سے ٹیکس صرف غریب طبقہ ہی دے رہاہے اس لیے کہ ستر فیصد بالواسطہ ٹیکسوں کی وجہ سے وہ پٹرول ، بجلی و گیس ، ٹرانسپورٹ ، تعلیم ، صحت ہر جگہ ٹیکس ادا کررہاہے اور اسکے پاس یہی ٹیکس کسی دوسرے سے وصو ل کرنے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں۔ امیر طبقہ تو اپنی مصنوعات و خدمات کی قیمتیں بڑھا کر ٹیکس دوسروں سے وصول کر لیتے ہیں ، غریب کس سے وصول کرے۔افسوس اس بات کا ہے کہ ےہ بجٹ اس حکومت کی جانب سے پےش کےا گےا جو سال2004ءمیں مہنگائی کو انتخابی موضوع بنا کر بی جے پی محاذ کواقتدار سے بے دخل کر کے کانگریس محاذ کی سرکار بنائی تھی اس وقت وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ سو دنوں میں مہنگائی پرقابوپالیاجائے گا۔ لےکن اےسا کچھ بھی نہےں ہوا۔ دن مہےنوں مےں بدلے مہےنے سالوں مےں ۔ پھر عام الیکشن آیااس میں بھی وہی وعدے دہرائے گئے۔اس وعدے کوبھی دس ماہ پورے ہو چکے ہیںمگرمہنگائی کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اب اس بجٹ سے توغرےب عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہےں ۔ بقول شاہد ھمدانیتارےخ کے سنھرے حوالے بھی چھےن لو ہم سے ہماری گود کے پالے بھی چھےن لوےوں ہی بجٹ کی مار سے مارو ہماری جان ےہ روکھے سوکھے چند نوالے بھی چھےن لو حکومت اس غلط فہمی مےں نہ رہے کہ عوام بےکس و مجبور ہےں ۔ ملک کی اکثریت جن کے ووٹوںسے ہی وہ منتخب ہو کر اقتدار تک پہنچی ہے اسے اقتدار سے بےدخل بھی کر سکتے ہےں۔ ےاد رہے کہ دنےا کے تمام انقلابات مظلوم عوام کے ہی مرہون منت ہےں۔ کہےں اےسا نا ہو کہ حکمرانوں کی نااہلی انہےں جمہورےت ہی سے ماےوس
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment